زندگی کی لکیر

جلدی چلو! “کی آواز گونجی اور میری کمر پر پڑنے والی، بندوق کے دستے کی چوٹ نے سوچوں کا تسلسل توڑ دیا... تکلیف کی شدت سے میری کراہ نکلی مگر دوسری ہی ضرب نے مجھے تیز چلنے پر مجبور کردیا۔
آہ...! “میری پشت پرایک اور ضرب لمبے چوڑے خرکار نے جمائی اور دوسرے نے مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا مگر تھوڑی دیر اسی طرح گھسیٹنے کے بعد جب وہ تھک گیا تو دوسرے کو مشورہ دیا
 ”یار! اس ہڈیوں کے پنجر کو یہیں گولی ماردو، خان سے کہہ دیں گے، بڑی چٹان کے پاس ہی مار ا ہے، اب کون اس کی لاش دیکھنے آئے گا۔
نہیں...! خان بہت تیز آدمی ہے، اگر اسے پتا چل گیا کہ ہم نے کام چوری کی ہے تو وہ ہمیں بھی اس ڈھانچے کی طرح دنیا سے رخصت کرا دے گا۔
بھرے ہوئے جسم مگر خالی دماغ والے خرکار نے اپنی دانست میں عقل کی بات کی اور لگا مجھے گھسیٹنے، مگر میں ایسی تکلیفوں کا عادی ہوچکا تھا، اس لیے میں نے خود کو ان کے حال پر چھوڑ دیااور زمین پر میرے گھسٹنے کی وجہ سے جو لکیر بنتی جارہی تھی، اسے دیکھنے لگا جو جلد ہی ختم ہونے والی تھی، اس پہاڑی راستے پر چھوٹے بڑے پتھروں پر گھسٹتے ہوئے میرے جسم سے خون بہنے لگا، مگر آج میرے اس خون کو دیکھ کر پریشان ہوجانے والی میری ماں وہاں نہیں تھی جو میری ذرا ذرا سی تکلیف کو دیکھ کر پریشان ہوجایا کرتی تھی، مجھے اس طرح جانوروں کی طرح گھسٹتا ہوا دیکھنے کے لیے میرے والد کی آنکھیں نہیں جو یقینا مجھے اس اذیت سے نجات دلانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیتے۔ مجھے اس حال میں دیکھنے والی بہنیں نہیں جو زخموں سے رِستے لہو کو روکنے میں والدہ کی مدد کرتیں، ان درد ناک لمحات میں بھائی نہیں جو اور کچھ نہیں تو کم از کم چیخ و پکار کرکے لوگوں کو مدد کے لیے تو بلا ہی لیتے مگر وہ مجھے اس حال میں دیکھ بھی کیسے سکتے ہیں، اس میں غلطی تو میری ہی ہے ، میر ی بری عادت نے ہی مجھے اس حال تک پہنچایا ہے، بری عادت سے مراد یہ نہیں کہ میں کوئی پیشہ ور چور ، ڈاکو، قاتل یالٹیرا ہوں بلکہ میری سب سے بری عادت کسی کو خاطر میں نہ لانا تھا، بس میں اپنی ہی بات منواناجانتا تھا۔
امی جب نصیحتیں کرتیں کہ ”کسی سے چیز لے کر مت کھانا، کسی سے پیسے مت لینا، کہیں دور جاؤ تو مجھے بتا کر جاؤ، اسکول سے سیدھے گھر آؤ“ تو مجھے یہ نصیحتیں زہر لگتیں ، بھلا ہم اپنی مرضی سے جی بھی نہیں سکتے ، یہ نہ کرو، وہ نہ کرو، وہاں نہ جاؤ، ایسے لوگوں میں مت بیٹھو۔ اس لیے میں امی کی نصیحتوں کو ایک کان سے سنتا اور دوسرے کان سے نکال دیتا۔ کئی کئی گھنٹے گھر پر بغیر بتائے باہر دوستوں کے ساتھ گزار دیتا، امی پوچھتی تو گول مول جواب دے دیتا، جس پر ڈانٹ پڑتی مگر میں اس طرح کی باتوں کا عادی ہوگیا تھا، پھر میری والدہ میری عادتوں کی وجہ سے پریشان رہنے لگی اور اسی وجہ سے مجھے ایک آدھ بار مار بھی پڑی جس نے مجھے گھر چھوڑنے کے فیصلے پر مجبور کیا، میں بھلا کیسے قیدیوں کی طرح زندگی گزار سکتا تھا، اس لیے ایک دن چپکے سے گھر سے بغیر بتائے نکل گیا۔
تین چار دن مختلف جگہوں پر گزارنے کے بعد میں بیزار ہوگیا تو مجھے گھر یاد آنے لگا، امی ابو یاد آنے لگے مگر اس ڈر سے گھر نہ جانا چاہا کہ ایک مرتبہ قید سے آزادی ملی ہے تودوبارہ میں کیوں جاؤں؟ یہ سوچ کر میں نے گھر جانے کا ارادہ ترک کردیا، مگر اپنی جیب میں بچ جانے والے پیسوں کو گنا تو بہت کم رہ گئے، یہ پیسے میں نے گھر سے چوری کئے تھے مگر میری فضول خرچی نے تین چار دن میں انہیں اتنا کم کردیا تھا کہ ایک وقت کے کھانے کا ہی بمشکل بندوبست ہوسکتا تھا، یہ سوچ کر پھر میرے ذہن میں گھر جانے کا خیال کلبلانے لگا مگر میرے باغیانہ جذبات نے مجھے ان سے روکا اور دلاسا دیا کہ کوئی چھوٹا موٹا کام کرکے گزارا کرلوں گا مگر امی کی نصیحتیں سننے دوبارہ گھر نہیں جاؤں گا، اتنے میں نہ جانے کہاں سے ابو آگئے اور انہوں نے آتے ہی مجھے گلے لگا لیا اور پیار کرنے لگے۔ اس سے پہلے کہ میں صورت حال کوسمجھ پاتا، امی بھی دوڑی ہوئی آئیں اورمجھے پیار کرتے کرتے رونے لگیں، مگر ان آنسوؤں کا بھی مجھ پر کوئی خاص اثر نہ ہوا اوران قیمتی آنسوؤں کو میں مگرمچھ کے آنسوخیال کرنے لگا ، میں نے دل ہی دل میں سوچا، اگر اتنا ہی مجھ سے پیار ہوتا تو مجھے کہیں آنے جانے سے نہ روکتیں اور کھیل کا وقت مخصوص نہ کرتیں اور اب کیسے مجھے دکھاوے کا پیار کررہی ہیں۔
بیٹا، کہاں چلے گئے تھے تم؟“ اچانک ابو نے مجھ سے سوال کیا تو مجھ پر مار کے خوف سے کپکپی طاری ہوگئی تھی، مگر میں نے بہانہ کیا کہ میں کھیلتے کھیلتے دور نکل گیا تھا ،اس لیے راستہ بھول گیا ورنہ میں خود گھر جانے کے لیے پریشان تھا۔‘ یہ کہتے ہوئے میں نے جھوٹ موٹ کے دوچار آنسو بھی بہاد ئیے۔ ابو نے بجائے ڈانٹنے کے مجھے پیار کیا اور گھر لے آئے، لیکن میری عادتوں کو یہ پیار بھی تبدیل نہ کرسکا اور ابھی بمشکل دو ہفتے ہی گزرے ہوں گے کہ ایک دن امی نے مجھے سودا لانے کے لیے بازار بھیجنا چاہا ، چونکہ اس وقت میں کہانی پڑھ رہا تھا اور کہانی میں بہادر شہزادے اور ظالم جادوگر کی لڑائی ہونے والی تھی، اس لیے میں نے امی سے کہا کہ کچھ دیر بعد سودا لے آؤں گا، مگر امی نے میرے ہاتھ سے کہانی چھین لی اور غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا
عصر کی نماز بھی تم نے اسی کہانی کی نذر کردی ہے اور اب سودا لانے کے لیے بھی یہ رکاوٹ بن رہی ہے، ہر کام کا وقت ہوتا ہے، جاؤ پہلے سودا لے آؤ۔“ یہ کہہ کر پیسے میرے ہاتھ میں تھما دئیے۔
میں غصے میں گھر سے نکلا لیکن دوبارہ گھر نہ جانے کا فیصلہ کرلیا اور انہی غلط سوچوں میں گم، گلیوں میں آوراہ گھومتا رہا ، جب گھومتے گھومتے تھک گیا تو ایک ویرانے میں بنی پرانی عمارت کے ٹوٹے پھوٹے چبوترے پر بیٹھ گیا، ابھی مجھے بیٹھے چند ہی منٹ ہوئے ہوں گے کہ اچانک میرے ناک کے قریب کوئی رومال نما چیز آئی اور پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا...ہوش آیا تو خود کوایک اندھیری کوٹھڑی میں آہنی زنجیر سے بندھا ہوا پایا، میں نے آزاد ہونے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا، بھوک کی شدت نے بھی کمزوری پیدا کردی تھی اور پیاس بھی ستار ہی تھی، کچھ ہی دیر بعد ایک بڑے بڑے بالوں اور ڈراؤنے چہرے والا شخص اندر آیا اور آدھی روٹی اور تھوڑا سا پانی میرے آگے رکھ کر چلا گیا۔ پہلے تو میں نے اسے ہاتھ تک نہ لگایا مگر جب بھوک برداشت سے باہر ہونے لگی تو ناچار مجھے اسی سے پیٹ کی آگ بجھانا پڑی۔ اسی طرح نہ جانے کتنے دن گزر گئے اور میں ایک کوٹھڑی میں بند رہا ۔
ایک دن اس شخص نے مجھے کوٹھڑی سے باہر نکالا اور باہر کھڑے ایک شخص کے حوالے کردیا ۔اس نے پہلے شخص کو کچھ پیسے دئیے اور مجھے لے کر پہاڑی راستے پر پیدل چلنے لگا، کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد وہ مجھے ایک ایسی آبادی میں لے گیا جہاں مجھ جیسے اور بھی لڑکے اور چھوٹے بچے موجود تھے۔ چونکہ اس وقت رات ہوچکی تھی، ا س لیے مجھے لے جاتے ہی ان بچوں کے ساتھ بند کردیا اور کھانے کے لئے بھی وہی آدھی روٹی دی گئی، لیکن اس کے ساتھ ایک پلیٹ میں ابلی ہوئی دال بھی تھی۔
اب مجھے اپنا گھر بہت یا د آنے لگا، نہ جانے میری امی کتنی پریشان ہوں گی، ابو کس حال میں ہوں گے، بہن بھائی کیسے ہوں گے؟یہ سوچتے سوچتے نہ جانے میں کب سوگیا۔ اچانک ہی میرے جسم پر ڈنڈے کی ایک زور دار ضرب پڑی جس نے مجھے ہڑ بڑا کر اٹھنے پر مجبور کردیا، دیکھا تو ایک جلاد قسم کا شخص ہاتھ میں ڈنڈا لیے کھڑا تھا اور میرے ساتھ بند تمام بچے غائب تھے،اس سے پیشتر کہ میں کچھ سمجھ پاتا، اس نے چنگھاڑتے ہوئے کہا
چلو اٹھو! باہر جاکر پتھر توڑو، اپنے باپ کے گھر میں نہیں ہو جو اس طرح آرام کررہے ہو۔“ پھر وہ مجھے کھینچ کر باہر لے گیا جہاں مجھے ایک بھاری ہتھوڑا دے دیا گیا اور میں نہ چاہتے ہوئے بغیر ناشتا کئے ایک چٹان پر بھاری ہتھوڑا برسانے لگا۔
اس طرح دن ہفتوں میں، ہفتے دنوں میں تبدیل ہوتے رہے، میں نے کئی دفعہ بھاگنے کا منصوبہ بنایا مگر یہ میرا اپنا گھر نہیں تھا کہ جب چاہا باہر نکل گیا،یہاں تو تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مسلح پہرے دار کھڑے تھے جن کی نظروں سے اوجھل ہونا ناممکن تھا۔ ایک مرتبہ میرے دو ساتھیوں نے بھاگنے کی کوشش کی تھی مگر انہیں اسی وقت گولی مار کر ہمیشہ کے لیے آزادی دے دی گئی تھی جس کی وجہ سے دوبارہ میری ہمت نہ ہوئی کہ میں یہاں سے راہِ فرار اختیار کروں۔
پتھر توڑتے توڑتے وقت کے ساتھ میرا جسم بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگا، میرے لڑکپن اور نوجوانی کے دن انہی پتھروں کے ساتھ شامل ہوتے گئے، پہرے دار بدلتے گئے، مگر نہ بدلی تو میری اور میرے ساتھ دوسرے قیدی ساتھیوں کی قسمت۔ گزشتہ کئی دنوں سے خان کو پہرے داروں نے رپورٹ دے دی تھی کہ اب میں ہڈیوں کا ڈھانچا بن چکا ہوں اور کسی کام کا نہیں رہا، اس لیے مجھے فارغ کردیا جائے تاکہ میرے حصے کی آدھی روٹی اور اُبلی ہوئی دال کے چند گھونٹ کسی نئے آنے والے کو منتقل کئے جاسکے۔ اس وجہ سے خان نے بھی فیصلہ سنا دیا ، مجھے ایک جگہ لایا گیا اور کہا گیا
بھاگو!   “
میں جانتا تھا، جونہی میں بھاگوں گا، یہ پیچھے سے گولیاں چلا دیں گے اور میں کھائی میں جا گروں گا، لیکن میں کر بھی کیا سکتا تھا۔ میں نے مڑ کر ان کی طرف دیکھا، مشکل سے بولا
مجھ میں بھاگنے کی طاقت نہیں ہے۔
وہ مسکرائے، پھر ان میں سے ایک نے مجھے دھکا دے دیا۔ میں نیچے کی طرف لڑھکنے لگا...اوپر سے انہوں نے گولیاں چلا دیں لیکن الله کو ابھی میری زندگی منظور تھی۔ میں ان کی گولیوں سے بچ گیا...جب کہ انہوں نے خیال کیا کہ گولیاں مجھے لگ گئی ہیں۔
اس طرح میں کئی سال بعد اپنے گھر پہنچ سکا۔ بڑھاپے کو پہنچ جانے والے ماں باپ نے مجھے بہت دیر کے بعد پہچانا...یہ انجام تھا والدین کی نصیحتوں پر برا ماننے کا...اور ان کی نا فرمانی کا۔
ختم شد