وہ صبح

اس دن صبح ہی صبح ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور موسم بہت خوش گوار تھا۔ اسکول کی بھی چھٹی تھی۔
میں نے امی جان سے ضد کی کہ آج تو ہم رشتہ داروں سے ملنے دریائے چناب کے کنارے جائیں گے۔ دریائے چناب ہمارے گھر سے تقریباً تین کلو میٹر دور ہے وہاں ہمارے کچھ عزیز رہتے ہیں۔ امی جان نے تھوڑی کوشش کے بعد میری ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ امی جان اور دو چچا زاد بہنوں کے ساتھ ہم پیدل ہی ادھر روانہ ہوئے، ہماری چلنے کی رفتار کافی تیز تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم فصلوں اور کھیتوں کی حدود میں پہنچ گئے۔ اتنے میں آسمان بادلوں سے ڈھک گیا۔ ابھی دریا کا بند کافی دور تھا۔ لیکن ابر برسنے کو بے تاب دکھائی دے رہا تھا۔ امی نے کہا بھی کہ گھر واپس چلتے ہیں، یہ نہ ہو کہ بارش برسنے لگے، لیکن ہم نے کہا: ”جب یہاں تک آگئے ہیں تو منزل پر جا کر ہی دم لیں گے۔

ہم لوگ دریا کی سمت جار ہے تھے تو دیکھا کہ کسان اور چرواہے اور باقی لوگ موسم کے خطرناک تیور دیکھ کر واپس آرہے تھے۔ کچا راستہ، کھڑی فصلیں، تنگ تنگ سی پگڈنڈیاں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان پر پیچ راستوں سے گزرتے ہوئے میری جوتی نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ حتیٰ کہ پاؤں میں چھالے پڑ گئے۔ تکلیف کی وجہ سے چلنا دو بھر ہوگیا۔ امی جان نے کہا

 ”جوتی اتار دو تاکہ چلنے میں رکاوٹ نہ ہو اور پاؤں بھی مزید چھلنے سے بچ جائے۔“سو میں نے جھٹ جوتی اتاری اور امی جان کے ہاتھ میں تھما دی۔ امی نے وہ اپنے پاس موجود شاپرمیں ڈال لی۔

دیہاتی لوگ اپنے اپنے مال مویشیوں کو ہانک کر بارش سے محفوظ جگہوں پر جلد سے جلد پہنچانے کی کوشش میں تھے۔ ہم چاروں نے بھاگنا شروع کر دیا کہ یہ نہ ہو، دریا پر پہنچتے پہنچتے بارش برسنے لگے اور جب ہم منزل پر پہنچیں تو رشتہ دار ہمیں ”کارٹون“ سمجھ کر پہچاننے سے انکار کر دیں۔

خدا خدا کرکے ہم دریا کے کنارے پہنچ ہی گئے، یہاں دریا کے پار ہمارے رشتہ داروں کے گھر تھے، لیکن آپ یقین کریں کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور صبح کے وقت ہی شام بلکہ رات کا گمان ہو رہا تھا۔ دریا کے پار جانے کے لئے نہ کشتیاں تھیں نہ ملاح․․․ مزید یہ کہ دریا کے پار نہ کوئی بندہ، نہ کوئی جانور، حتیٰ کہ کوئی پرندہ بھی نظر نہ آیا۔ جس کنارے پر ہم کھڑے تھے وہاں بھی ہمارے علاوہ نہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات۔ دریا کی لہروں کے پر اسرار شور سے اور ہوا کی ٹھنڈک سے دل منجمد ہوئے جا رہے تھے، حالانکہ اس موسم میں اکثر لطف اٹھایا جاتاہے، لیکن ان حالات میں تو بس خوف ہی خوف تھا۔ ایسے میں سب نے دل ہی دل میں خدا کو یاد کرنا شروع کر دیا، کہنے لگے

اللہ خیر کرے۔

جیسے ہی ہم نے نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو یوں لگا کہ جیسے سارے آسمان نے کالی چادر اوڑھ رکھی ہو․․․ بادلوں کی آواز ایسے آرہی تھی جیسے جنگل میں بے شمار شیروں کی لڑائی ہو رہی ہو اور سب نے اکٹھے ہی دھاڑنا شروع کر دیا ہو۔ مشرق، مغرب، شمال جنوب غرض ہر سمت میں آسمان سیاہ نظر آرہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہاتھا جیسے قدرت نے بارش برسانے والی چھتری تان دی ہو، غرض یہ کہ بالکل غیر محفوظ صورتِ حال تھی․․․․ میں ہوں ہی سد ا کی ڈرپوک اور بزدل لڑکی․․․․ اور اوپر سے اتنا ڈراؤنا منظر۔ تمام فصلیں اور دریا کے کنارے لگے پودے وغیرہ بھی اندھیرے میں سیاہ دکھائی دے رہے تھے اور مزید یہ کہ جب وہ تیز ہوا سے ہلتے تو ایسا لگتا جیسے بہت سی بد روحیں کالا لباس اوڑھے ہم پر حملہ کرنے کو بے تاب ہوں اور ابر تھا کہ برسنے کو صرف خدا کے حکم کا منتظر۔

اس صورتِ حال میں، میں ڈر کے مارے چیخنے لگی۔ اب ہمیں گھر واپسی کی جلدی تھی مگر مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان بادلوں کی وجہ سے ہم شاید ہی کبھی گھر پہنچ سکیں․․․ میں خوف کی شدت سے امی جان سے لپٹ گئی۔ امی نے مجھے تسلی دلاسے دیے، تب میرے کمزور دل کو کچھ ڈھارس بندھی اور میں درختوں کے ان خوف ناک اور ہیبت ناک ہیولوں سے ڈرنے کی بجائے آیة الکرسی پڑھنے لگی۔ الله کا نام لے کر ہم نے واپسی شروع کی․․․ تیز تیز قدموں سے اس طرح گھر کی طرف لپکے کہ پیچھے مڑکر نہ دیکھا، اتنے میں بارش زور و شور سے شروع ہوگئی ․․․ مگر کیچڑ، فصلوں اور پگڈنڈیوں کی پروا کیے بغیر بس بھاگ کر گھر پہنچنے کی دھن ہمارے ذہنوں پر سوار تھی۔ تمام راستے میں ایک بندہ بشر بھی ہمیں نظر نہ آیا۔ شہر میں داخل ہوتے ہی اس خوف ناک ڈراؤنے اور ہیبت ناک قسم کے ماحول سے نجات ملی تو ہم نے آرام سے چلنا شروع کر دیا۔2 روپے والے سکوں کے برابر یا شاید اس سے بھی بڑے سکوں کے سائز کے بارش کے قطرے پڑ رہے تھے۔ ہم بری طرح بارش میں بھیگ چکے تھے۔ ابر کھل کر برس رہا تھا۔ اس حالت میں ہم گھر پہنچے۔

گھر پہنچتے ہی امی جان نے مجھے ڈانٹا: ”یہ سب تمہارا پروگرام تھا کہ باہر چلیں۔ اور ڈر بھی تم ہی سب سے زیادہ رہی تھیں۔ اب آیندہ خبردار جو تم نے باہر جانے کا نام بھی لیا تو۔

آج بھی اس دن کو یاد کرکے خود پر ہنسی آتی ہے۔

ختم شد