|
تیسرا
ڈاکٹر |
|
قاری عبدالرحمن
|
”جناب
ڈاکٹر صاحب:میں بہت پریشان ہوں، آج سے نہیں، سالہا سال سے، آپ میری
مدد کر سکتے ہیں۔ میرا سارے کا سارا گھر بیمار ہے، میرے گھر کے چودہ
افراد ہیں۔چودہ میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس کے لئے دوا نہ لانا پڑتی
ہو، کسی کو ایک مرض سے نجات ملتی ہے تو دوسر ا شروع ہو جاتا ہے۔
دوسرا مرض ختم ہوتا ہے تو تیسرا شروع ہو جاتا ہے۔ کیا آپ میری مدد کر
سکتے ہیں“
مریض یہاں تک کہہ کر خاموش ہو گیا اور ڈاکٹر کی طرف دیکھنے لگا۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے پیڈ کے کاغذ پر کچھ لکھا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔
”ان کے پاس چلے جائیں، یہ آپ کو حل بتائیں گے، یہ اس قسم کے معاملات
کے ماہر ہیں“
ان صاحب نے وہ رقعہ لیا اور باہر نکل آئے۔ اب رقعے پر لکھے مکمل پتے
پر پہنچے۔ دروازے پر بہت بڑا بورڈ لگا تھا۔ اس پر لکھا تھا۔
” پروفیسر ڈاکٹر حامد رضوانی ماہرِ نفسیات“
نام کے بعد ڈگریوں کی لمبی لمبی قطاریں تھیں۔ یہ اندر گئے، اپنا نام
درج کروایا اور باری کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ انتظار گاہ میں قریباً
50مریض
موجود تھے۔ وہ سوچ میں پڑ گئے کہ اگر ڈاکٹر حامد رضوانی ہر مریض پر
پانچ منٹ بھی لگائیں، تب بھی چار گھنٹے سے پہلے باری نہیں آئے گی۔
اور چار گھنٹے کا انتظار انہیں اور زیادہ بیمار کر دے گا۔ اس کا حل
انہوں نے یہ سوچا کہ اٹھ کر گھر گئے، تیں گھنٹے گزار کر پھر وہاں
پہنچے تو ان کی باری آنے والی تھی۔ آخر ان کا نام پکارا گیا۔ اندر
ایک ادھیڑ عمر صاحب بیٹھے تھے۔ بال سفید ہو چکے تھے۔ انہوں نے سابقہ
ڈاکٹر کا رقعہ پڑھا، پھر ان سے بولے:
”آپ کا نام“
”جی صابر شیخ“ وہ بولے۔
”آپ اپنا مسئلہ بیان کریں، آپ کو صرف پانچ منٹ کا وقت دیا جاتا ہے،
چھٹے منٹ میں نسخہ لکھ دوں گا اور آپ تشریف لے جائیں گے، یہ اس لئے
بتا دیا کہ باہر اور لوگ انتظار کر رہے ہیں“
”جی ہاں : میں جانتا ہوں....سنیے“
صابر صاحب نے وہی تمام باتیں تفصیل سے دہرا دیں۔
آپ کے مالی حالات کیسے ہیں؟
”جی بالکل ٹھیک...اخراجات کا کوئی مسئلہ نہیں“
اب انہوں نے ایک کاغذ پر کچھ لکھا اور انہیں دیتے ہوئے کہا :
”آپ ان کے پاس جائیں“
صابر شیخ برے برے منہ بناتے باہر آگئے۔ اب وہ نئے رقعے پر لکھے پتے
پر پہنچے۔ یہ کسی کا گھر تھا۔ کلینک کے آثار وہاں نہیں تھے، دستک کے
جواب میں سفید ڈاڑھی والے ایک بزرگ نے دروازہ کھولا:
”السلام علیکم!فرمائیے!کیا خدمت کر سکتا ہوں“
”مولانا محمداسلم یہاں رہتے ہیں“
”میرا ہی نام محمد اسلم ہے“
”پروفیسر ڈاکٹر حامد رضوانی ماہر نفسیات نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے“
”سمجھ گیا“ وہ مسکرائے۔
”جی....کیا سمجھ گئے آپ“ صابر شیخ نے حیران ہو کر کہا۔
”اندر آ جائیں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں“
وہ انہیں اپنے ڈرائنگ روم میں لے آئے۔ ڈرائنگ روم بہت سادہ تھا۔ نہ
صوفہ سیٹ، نہ میز، نہ کرسیاں....ایک چٹائی فرش پر بچھی تھی۔
”پروفیسر حامد رضوانی ماہرِ نفسیات نے دراصل اپنا علاج بھی مجھ سے
کرایا تھا، اس روز سے جو مریض ان کی سمجھ میں نہیں آتا، میرے پاس
بھیج دیتے ہیں“
”تت...تو کیا آپ ڈاکٹر ہیں“۔ صابر شیخ نے پوچھا۔
”نہیں!میں ڈاکٹر نہیں ہوں“
”تو پھر کیا آپ حکیم میں؟“ صابر شیخ نے حیران ہو کر پوچھا۔
”میں حکیم بھی نہیں ہوں“
”تب پھر حامد رضوانی صاحب نے مجھے آپ کے پاس کس لیے بھیجا ہے“
”اس لیے کہ انہیں بھی کسی نے میرے پاس بھیجا تھا“
”خیر میں اپنا مسئلہ بتاتا ہوں“
”بالکل ٹھیک....اطمینان سے بتائیے، کوئی جلدی نہیں ہے، انشاءاﷲ آپ کا
مسئلہ حل ہو جائے گا“
صابر شیخ نے تمام باتیں تفصیل سے سنا دیں۔ان کے خاموش ہونے پر مولانا
محمد اسلم نے سوالات کا سلسلہ شروع کر دیا۔
”آپ نماز پڑھتے ہیں“
”گھر کا ہر فرد نماز پڑھتا ہے“
”روزے رکھتے ہیں“
”بالکل....کبھی کوئی روزہ نہیں چھوڑتا، گھر کے افراد بھی روزے پابندی
سے رکھتے ہیں“
”زکٰوۃ ادا کرتے ہیں“
”بالکل پوری ادا کرتے ہیں“
”قربانی بھی کرتے ہوں گے، حج بھی کر چکے ہوں گے، قران کریم کی تلاوت
بھی کرتے ہوں گے“
”ہاں بالکل، بہت باقاعدگی سے کرتے ہیں اور کر رہے ہیں“
”کاروبار کس چیز کا ہے آپ کا“ مولانا محمد اسلم نے پوچھا۔
”کوئی نہیں....“
”جی کیا مطلب....کوئی نہیں“ مولانا نے چونک کر کہا۔
”کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں، بنک میں بے تحاشہ پیسہ جمع ہے۔ سارا سال
اس کا منافع کھاتے رہتے ہیں“
مولانا محمد اسلم نے اس کے بعد بھی ادھر ادھر کے چند سوالات کیے، پھر
نسخہ لکھ کر ان کی طرف بڑھا دیا۔
”یہ نسخہ لے جائیں۔ اس کے مطابق عمل کریں گے تو چھ ماہ کے اندر تمام
بیماریاں ختم... عمل نہیں کریں گے تو پھر میں کوئی امید نہیں دلا سکتا
اور ہاں!اس نسخے کو شروع کرنے سے پہلے آپ اپنا نام تبدیل کر دیں۔
صابر نام درست نہیں، اس کا مطلب ہے صبر کرنے والا۔ اس میں ایک دعویٰ
پایا جاتا ہے، دعوے کرنے سے ڈری، عاجزی بہتر
ہے....اب جائیں۔ “
”اوہ....اوہ....“ صابر شیخ کے منہ سے نکلا۔ پھر وہ اٹھ کر باہر نکل
گئے۔ گھر جا کر انہوں اس نسخے کو کھولا....پھر پڑھا۔وہ بہت مشکل
نسخہ تھا، بلکہ اس کو مشکل ترین کہا جا سکتا تھا، لیکن وہ جگہ جگہ
پھر کر تنگ آ چکے تھے، انہوں نے اس نسخے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
گھر کے تمام افراد کو بتادیا۔ سبھی اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔ اور پھر نسخے پر عمل شروع ہو گیا۔ اس کا نتیجہ بہت حیرت انگیز
تھا۔ وہ سب کے سب حیرت زدہ تھے.... آخر صابر شیخ مولانا محمد اسلم کے
پاس پہنچے وہ بہت گرم جوشی سے ملے۔
”آپ تو شاید چھ ماہ سے بھی پہلے آ گئے“ وہ بولے۔
”جی ہاں! میرے گھر میں تندرستی کی لہر سی آ گئی ہے، جسے دیکھو، تندرست
ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب ہم ڈاکٹروں کے ہاں دھکے نہیں کھاتے پھرتے۔ نہ
روزانہ دواﺅں پر دوائیں خریدنا پڑتی ہیں۔ کوئی معمولی بیماری البتہ
ضرور پیش آجاتی ہے۔ جیسے نزلہ، زکام، بخار، کھانسی وغیرہ، اور ایک
آدھ دن رہ کر رخصت ہو جاتی ہے۔ وہ جو مسلسل بیماریاں چلی آرہی تھیں
نا مولانا صاحب.... وہ اب بالکل نہیں رہ گئیں... پہلے تو میں نے گھر
جاتے ہی اپنا نام صابر سے شاکر رکھا، سب گھر والوں کو بتا دیا کہ آج
سے میرا نام صابر نہیں، شاکر ہے، پھر میں نے وہ نسخہ پڑھ کر سب کو
سنایا۔ اس پر عمل کرنا اگرچہ آسان کام نہیں تھا، لیکن ہم نے عمل کرنے
کا پروگرام بنا لیا۔ سودی کھاتے کو فوراً بند کروا دیا۔ سود کی اس
وقت تک جتنی رقم وصول کی تھی، سب کی سب چھوڑ دی، اپنی اصل رقم جو
باقی رہ گئی، وہ نکلوا کر کرنٹ اکاﺅنٹ میں جمع کرائی جس میں سود نہیں
لگتا، پھر ایک کاروبار شروع کر دیا، تمام مرد اس کاروبار میں مصروف
ہو گئے۔ عبادت کے وقت عبادت کرنے لگے اور کاروبار کے وقت کاروبار،
دین کے کاموں میں برابر حصہ لینے لگے۔ بس ہماری حالت سنبھلتی چلی گئی....اب
میں اعلانیہ کہہ سکتا ہوں، ہمارے گھر میں سود کی لعنت نے ڈیرہ جما
لیا تھا۔ ہم نے اس لعنت کو نکال باہر کیا اور اس کی جگہ تندرستی خود
بخود آ گئی۔ اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اور آپ کا بہت بہت شکریہ!“
یہ کہہ کر شاکر شیخ اٹھ کھڑے ہوئے، مولانا محمد اسلم نے مسکرا کر گرم
جوشی سے ان سے مصافحہ کیا اور دروازے تک انہیں رخصت کرنے کے لئے چل
پڑے۔
------------o----------- |
|
|