سچی خوشی
|
سردی کی وجہ سے اس کا جسم نیلا پڑ گیا تھا․․․ آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔وہ صبح سے اب تک امیر لوگوں کی گاڑیوں کے شیشے صاف کرتا رہا تھا۔اس طرح اس نے جو تھوڑے بہت پیسے جمع کیے تھے وہ اس کے پاس تھے․․․ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ان کو بھینچ رکھا تھا۔وہ بار بار اپنے پھٹے پرانے کپڑوں سے جسم کو لپیٹ رہا تھا،تاکہ سردی سے بچ سکے۔اس کے دانت بج رہے تھے وہ بیچ بازار میں کھڑا تھا… بازار میں اکا دکا لوگ گزر رہے تھے․․․ ایک دوبار اس نے سوچا کہ لوگوں سے بھیک مانگ لے۔لیکن بعد میں اس نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔ برف روئی کے گالوں کی طرح گر رہی تھی․․․ اس کے کپڑے تار تار ہوچکے تھے۔آخر کار اس نے اپنی تمام تر قوت کو جمع کیا اور ایک طرف کو چل دیا۔راستے میں دونوجوان بحث میں مصروف تھے۔اس نے ان کی باتوں کو غور سے سنا۔ ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا
”میرے دوست سچی خوشی اس دنیا میں تو مل نہیں سکتی۔بہرحال آگے کا اللہ مالک ہے۔ “
دیکھنے میں وہ دونوں امیر اور فیشن ایبل معلوم ہورہے تھے۔پہلے نوجوان نے دوسرے سے کہا
”تم تو بہت ہی ناشکرے ہو۔تمہارے پاس دولت، عزت، شہرت، ہر چیز موجود ہے۔ پھر تمہیں کس چیز کا دکھ ہے۔کھاؤ پیو،عیش کرو۔ “
وہ ان کی باتیں سن کر پریشان سا ہوگیا۔اس نے سوچا: ”امیروں کے پاس ہر چیز ہوتی ہے،لیکن انہیں بھی سچی خوشی میسر نہیں․․․ ہم غریب بھی اس سے محروم ہیں۔آخر یہ سچی خوشی کس کے حصے میں چلی گئی؟ کاش مجھے بھی سچی خوشی کا ایک لمحہ میسر آجائے۔ “
پھر وہ اپنے ہی اس خیال پر خود ہی مسکرادیا․․․ کیونکہ اس نے تودنیا میں دکھوں اور غموں کے سوا کچھ نہیں دیکھاتھا۔
یہی سوچتا ہوا وہ سڑک کے ویران کنارے چلتا جارہا تھا کہ ایک فقیر کی صدا سنائی دی: ”خدا کے لیے اس اندھے فقیر کی مدد کردو۔ کچھ کھانے کے لیے دے دو۔خداکے لیے میری مدد کرو۔ “
وہ واپس مڑا اور اس فقیر کے پاس جا بیٹھا۔ اس سے باتیں کرنے لگا۔ لوگ ان سے بے خبر ہو کر گزر رہے تھے۔پھر اس نے چند سکے جیب سے نکالے اور فقیر کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اندھے فقیر نے کہا۔ ”بابوجی! آپ بہت اچھے ہیں۔آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی ہم زندہ ہیں۔آپ جیسے امیر لوگ ہی ہمارے لیے اپنے دل میں نرم جگہ رکھتے ہیں۔ “
وہ مسکرادیا․․․ اس فقیر کو کیا پتا کہ وہ بھی اس کی طرح ایک غریب انسان ہے…پھر وہ اس فقیر کو اپنے ساتھ لے کر ایک سستے سے ہوٹل میں چلا گیا۔کھانا منگوایا اور فقیر کے سامنے رکھ دیا۔ اب اس کی جیب بالکل خالی ہوچکی تھی۔ فقیر اس طرح کھانا کھانے لگا جیسے کئی دنوں سے بھوکا ہو۔
ادھر بھوک سے اس کا پیٹ کمر سے جالگا تھا۔کئی بار اس نے سوچا کہ فقیر کے سامنے سے چند لقمے اٹھا کر کھالے۔فقیر کو کو ن سا نظر آرہا ہے،لیکن وہ ایسا نہ کرسکا۔
جب فقیر نے کھانا کھا لیا تو اس نے پوچھا: ”آپ رہتے کہاں ہیں؟ “
اندھے فقیر نے کہا: ”ایک دکاندار نے اپنی دکان کے سامنے رہنے کے لیے کچھ جگہ دی ہے۔ وہیں رہتا ہوں۔ “
اس نے فقیر سے جگہ کا پتا پوچھا اور اسے ساتھ لے کر اس طرف چل دیا۔بھوک کی وجہ سے اس کا برا حال تھا․․․ چلنا بھی دشوار ہو رہا تھا․․․ قدم لڑکھڑا رہے تھے․․․ دانت سردی سے بج رہے تھے۔اس نے فقیر کو اس کی جگہ پہنچایا اورواپس آنے لگا۔
ابھی کچھ ہی دور چلا تھا کہ ٹانگوں نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا․․․ وہ سڑک کے ساتھ لگے ہوئے جنگلے کے پاس گر گیا۔اس نے پھر اٹھنے کی ہمت کی،لیکن ناکام رہا۔ رات بھر وہ وہیں پڑا کانپتا رہا۔ رات کے آخری پہر سردی میں بہت تیزی آگئی تھی… اس کے ہاتھ پاؤں شل ہوچکے تھے، اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ اس نے کلمہ طیبہ پڑھنا شروع کردیا․․․ اس کے ساتھ ہی اس کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوگئے۔اس نے سوچا: ”میں نے سچی خوشی کی جو آرزو کی تھی،شاید وہ پوری ہوگئی ہے․․․ ہاں یہی سچی خوشی ہے۔ “
دوسرے دن صبح سویرے وہی اندھا فقیر ادھر چلا آرہا تھا کہ اس کا پاؤں کسی سخت وجود سے ٹکرایا۔اس نے ٹٹولا تو وہ وجود انسانی جسم محسوس ہوا۔اس نے راہگیروں کو آواز دے کر متوجہ کیا۔لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے: ”لگتا ہے کوئی بھکاری تھا۔سردی کی وجہ سے مر گیا۔ “
کچھ دیر بعد وہاں”ادھر سے راستہ دو،ہٹو،بچو“، کی آوازیں آنے لگیں۔
شاید لوگ اسے لاوارث لاش کے طور پر اٹھا کر سرد خانے لے جارہے تھے۔ادھر اندھا فقیر وہی صدا لگاتا جا رہا تھا
”اللہ کے نام پر کچھ کھانے کو دے دو بابا۔ “
انگریزوں نے اسے انعام واکرام سے نوازا۔ جاگیر بھی دی... راجہ خان نے اپنے باقی دن گیدڑ کی سو سالہ زندگی کی طرح پورے کیے... مگر آج کون ہے جو اس گیدڑ کا نام عزت سے لے...ہاں شیر میسور کی دھاڑ آج بھی دلوں کو گرما رہی ہے ان کا یادگار جملہ آج بھی تاریخ اور علم و حکمت کی کتابوں میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے۔
ختم شد |
|
|