مخلوق خدا سے محبت کا صلہ
|
آئے۔ یہاں تک کہ اس کے بال سفید ہوگئے اور اس کی بھنوؤں نے آنکھوں کو ڈھانپ لیا لیکن وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے بیگانہ ہو کر صرف اللہ کی عبادت میں مشغول رہا۔
ایک لمبے عرصے کے بعد کوئی رحم دل بادشاہ عام آدمی کے بھیس میں رعایا کا حال معلوم کرنے گھومتا گھامتا وہاں آنکلا۔ اس نے اس بزرگ کو دیکھا جو خدا کی یاد میں غرق تھا۔بادشاہ نے اس سے پوچھا۔”تم یہاں پر کیا کر رہے ہو؟ “
اس بزرگ نے جواب دیا: ”میں اللہ کو راضی کرنے کے لیے اس کی مخلوق سے دور ہو کر اور ان سے رشتہ توڑ کر اس جنگل میں آیا ہوں اور میں نے اللہ کو راضی کرنے کا ایک پیمانہ بنایا ہے۔ “
بادشاہ نے اس سے پوچھا: ”وہ کون سا پیمانہ ہے جس سے تمہیں معلوم ہوگا کہ اب خدا تم سے راضی ہوچکا ہے؟ “
اس نے لکڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”جب اس لکڑی سے پھول اور پتے برآمد ہوں گے، تب میں سمجھ جاؤں گا کہ اب اللہ مجھ سے راضی ہوگیا ہے۔ “
بادشاہ پہلے ہی حیران تھا، وہ بھی اس بزرگ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس نے بھی اپنے سامنے ایک سوکھی لکڑی گاڑ دی اور کہا: ”میں بھی خدا کو راضی کروں گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پہلے خدا تم سے راضی ہوتا ہے یا مجھ سے۔ “
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ان کے سامنے سے ایک قافلہ گزرا۔ وہ تھوڑے فاصلے پر رک گیا۔ بادشاہ نے دل میں سوچا: ”مجھے دیکھنا چاہیے کہ قافلے والے کیوں رک گئے ہیں۔ شاید میں ان کی مدد کر سکوں۔ “
وہاں جا کر اس نے قافلے والوں سے ان کے رکنے کا سبب معلوم کیا تو اسے بتایا گیا کہ ایک مسافر کا اونٹ مرگیا ہے اور وہ قافلے والوں سے التجا کر رہا ہے کہ میرا سامان کوئی اٹھا لے، لیکن کوئی بھی اٹھانے کو تیار نہیں۔ قافلے والے اس کو وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔ بادشاہ نے قافلے والوں سے کہا: ”اس کا سامان اٹھا لو، ورنہ اس جنگل بیابان میں اسے جنگلی درندے مار ڈالیں گے۔ “
قافلے والوں نے جواب دیا: ”کسی کے اونٹ پر بھی اتنی گنجائش نہیں ہے کہ اس کا سامان لادا جائے۔ “
بادشاہ نے انھیں مشورہ دیتے ہوئے کہا: ”تم لوگ اس کا سامان تھوڑا تھوڑا کرکے بانٹ لو اور اسے منزلِ مقصود پر پہنچا کر اس کے حوالے کر دینا۔ اس سے تم پر بھی کوئی بوجھ نہیں پڑے گا اور اس آدمی کا بھی بھلا ہوجائے گا۔ “
اس بات کو سب نے پسند کیا اور قافلے والوں نے اس آدمی کا سامان تھوڑا تھوڑا کرکے اٹھا لیا اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔
قافلے کو روانہ کرنے کے بعد جب بادشاہ واپس اپنی جگہ پر آیا تو کیا دیکھتا ہے، اس کی گاڑی ہوئی سوکھی لکڑی میں اللہ کے حکم سے کونپلیں نکل رہی ہیں اور پھول لگ رہے ہیں۔ اس نے جلدی سے اس بزرگ کا کندھا پکڑ کر کہا: ”حضرت !یہ دیکھیے، اس لکڑی سے پھول نکل رہے ہیں۔ “
جب بزرگ نے بادشاہ کی لکڑی پر پھول اگتے ہوئے دیکھے تو حیران رہ گیا ،وہ کچھ دیر سوچتارہا اورپھریک دم اٹھ کھڑا ہوا اور شہر کی طرف چل دیا۔ بادشاہ نے پوچھا: ”آپ کہاں جا رہے ہیں؟ “
اس نے جواب دیا: ”آج مجھے پتا چل گیا ہے کہ مخلوقِ خدا سے پیار کرنے اور ان کے کام آنے سے ہی خدا راضی ہوتا ہے، تو نے ایک بندے کے ساتھ بھلائی کی اور اسے قافلے والوں کے ساتھ روانہ کرنے کا نیک مشورہ دیا، اس عمل سے خدا راضی ہوگیا۔ سو میں نے جان لیا ہے کہ مخلوقِ خدا کے کام آنا خدا کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے۔ “
ختم شد |
|
|