|
”راکٹ
روانگی کے لیے تیار ہے سر، لیکن....“
پروفیسرایڈم نے نظر بھر کر اپنے نائب کراؤن کی طرف دیکھا اور بولا:
”لیکن کیا، میں نے تم سے کتنی بار کہا ہے، بات کو درمیان میں نہ
چھوڑا کرو“
”لیکن ٹمّی اچانک بیمار ہو گیا، اسے قے پر قے آ رہی ہے، شاید ہیضہ ہو
گیا ہے۔ کھاتا بہت ہے نا، اس حالت میں تو وہ کئی روز تک جانے کے قابل
نہیں ہو سکتا“
”اوہ!یہ تم نے بُری سنائی۔ خلائی سفر کو اب ہم لیٹ نہیں کر سکتے۔ ملک
کے صدر بار بار پوچھ رہے ہیں، ہمارا خلائی جہاز کب روانہ ہو گا
آخر....“ پروفیسر ایڈم نے پریشان ہو کر کہا۔
”آپ ہی پھر اس کا حل بتائیں“
”ہم ٹمّی کی جگہ کسے بھیج سکتے ہیں بھلا“؟
”میری نظرمیں تو ایسا کوئی شخص نہیں“
”ہوں اچھا خیر!میں ایک نوجوان کو بلاتا ہوں“
یہ کہہ کر پروفیسر ایڈم نے نمبر ملائے اور بولا۔
”ہیلو کیپٹن لاری...کیا حال ہے....تم ذرا اپنے منیجر سے چند دن کی
چھٹی لے کر میرے پاس آ جاؤ...تمہیں ایک ضروری مہم پر بھیجنا ہے“
”اوکے سر...ابھی حاضر ہوتا ہوں“ دوسری طرف سے شوخ لہجے میں کہا گیا۔
جلدہی نیلی آنکھوں والا ایک تیز طرار سا نوجوان پروفیسر ایڈم کے
سامنے بیٹھا تھا۔
”کیپٹن !“ پروفیسر کی آواز ابھری:
”یس سر...“
”تمہیں ایک مشن پر بھیجا جا رہا ہے، کیا تم حکم کی تعمیل کرو گے“
”کیوں نہیں سر!یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے“
”تب پھر تمہیں خلائی سفر پر بھیجا جا رہا ہے“
”جی !کیا کہا...خلائی سفر پر“ نوجوان لاری نے چونک کر کہا۔
”ہاں لاری، خلائی جہاز بالکل تیار اپنے سٹینڈ پر کھڑا ہے، اس میں
ٹمّی کو بھیجا جانا تھا لیکن وہ اچانک بیمار ہو گیا ہے۔خلائی جہاز
مریخ پر اترے گا، تمہیں مریخ کی زمین پر اتر کر صرف یہ معلوم کرنا
ہے.....کیا وہاں کوئی آبادی، پانی ہے، ہوا ہے، مٹی گیس ہے اور بس۔
پھر تم خلائی جہازمیںسوار ہو کر واپس آ جاؤ گے۔ خلائی جہاز کی سمت
مقرر ہے۔ یہ خود زمین کے مدار سے نکل کر خلا میں جائے گا اور خلا سے
مریخ میں داخل ہو گا۔ تمہیں کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔ صرف خلائی جہاز
میں بیٹھنا ہے۔ مریخ پر جا کر اترنا ہے اور یہ باتیں نوٹ کر کے پھر
اس میں سوار ہونا ہے، اس کے بعد وہ زمین پر خود بخود آئے گا“
”بھئی واہ: یہ تو مزے کا سفر رہے گا، ایسا سفر تو میں بار بار کرنے
کے لیے تیارہوں“ لاری خوش ہو گیا۔
”بہت خوب!مجھے خوشی ہے، یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو گیا“
اور پھر پروفیسر ایڈم خود اس نوجوان کو جہاز کے سٹینڈ تک
لائے....جہاز کا دروازہ کھلا تھا اور اس کے ساتھ سیڑھی لٹک رہی تھی۔
یہ خلائی جہاز بالکل چلغوزے کی شکل کا تھا۔
لاری نے پروفیسر سے ہاتھ ملایا، دوسروں کو الوداعی انداز میں ہاتھ سے
اشارہ کیا اور سیڑھی چڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ وہ جہاز کے دروازے پر
پہنچ گیا۔
”اچھا: تو میں چلا....“ اس نے یہ کہہ کر ہاتھ ہلایا۔
سب نے اس کی طرف ہاتھ ہلائے، وہ اندر داخل ہو گیا سیڑھی خود بخود اٹھ
کر جہاز کے اندر جا گری، دروازہ بند ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی راکٹ سے آگ
نکلنے لگی۔ آگ کی تیزی اور شور بڑھتا چلا گیا۔ وہ خلائی جہاز سے
پیچھے ہٹتے چلے گئے...اور پھر ایک زور دار آواز کے ساتھ جہاز اس طرح
اوپر اٹھا کہ جیسے کوئی تیر اوپر کی طرف چھوڑا گیا ہو۔ نیچے کھڑے
ہوئے لوگ خلائی جہاز کو اس وقت تک دیکھتے رہے جب تک کہ نظروں سے
اوجھل نہیں ہو گیا۔
”اب ٹھیک ایک ہفتے بعد خلائی جہاز واپس آئے گا، ہم اسی جگہ کیپٹن
لاری کو خوش آمدید کہیں گے“
پروفیسر ایڈم نے کہا اور اپنے دفتر کی طرف مڑ گئے۔
O
ایک ہفتے
بعد سب لوگ اس جگہ پہنچ گئے، ان کے ہاتھوں میں پھولوں وغیرہ کے ہار
تھے۔ یہ سب خلائی جہاز سے اترنے والے کیپٹن لاری کا استقبال کرنے کے
لیے جمع ہوئے تھے۔ ان میں پروفیسر ایڈم سب سے آگے تھا، اس کی آنکھیں
چمک رہی تھیں۔ پھر وقت گزر گیا، لیکن خلائی جہاز واپس آتا نظرنہ آیا۔
وہ بار بارگھڑیوں کی طرف دیکھتے رہے۔ جہاز تو اپنے پروگرام سے ایک
سیکنڈ لیٹ نہیں ہو سکتا تھا۔اب تو ان کے چہرے اتر گئے، رنگ زرد پڑ
گئے۔سب کے چہروں پر ایک ہی سوال تھا۔
”کیا خلائی جہاز حادثے کا شکار ہوگیا....کیا کیپٹن لاری اب اس دنیا
میں نہیں ہے۔ پھر پروفیسر ایڈم لڑکھڑا کر گرا اور بے ہوش ہوگیا“
اسے ہوش میں لایا گیا۔ اس نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا:
”وہ ....وہ میرا بیٹا تھا....حقیقی
بیٹا....ٹمّی کے بیمار ہونے پر کون خلا کے سفر پر جاتا....میں نے
اپنے بیٹے کو بھیج دیا“
یہ کہہ کر پروفیسر زار و قطار رونے لگا۔
O
خلائی
جہاز مریخ پر اترا۔ اس کا دروازہ کھلا۔ سیڑھی نیچے لٹک گئی۔ کیپٹن
لاری مسکراتا ہوا باہر نکلا اور سیڑھی کے ذریعے مریخ کی زمین پر اتر
آیا۔اس نے چاروں طرف دیکھا مریخ پر اس وقت دن نکلا ہوا تھا۔ دھوپ
پھیلی ہوئی تھی۔ وہ نہایت اطمینان سے اپنے چاروں طرف کا جائزہ لینے
لگا۔ اس کا خلائی جہاز پہاڑوں کے درمیان اترا تھا، ہر طرف بلند و
بالا پہاڑ تھے۔ لیکن یہ چٹیل پہاڑ تھے۔ ان پر سبزہ نام کی کوئی چیز
نہیں تھی۔ مریخ پر ہوا کا دباؤ بہت کم تھا۔ اسے اپنے آکسیجن ماسک کے
ذریعے سانس لینا پڑ رہا تھا۔ اس نے سوچا، میں یہاں زیادہ دیر نہیں
ٹھہر سکتا، اگر آکسیجن ختم ہو گئی تو میں مر جاؤں گا۔ اب اس نے جلدی
جلدی وہاں کی مٹی، کنکر اور پتھر تھیلے میں بھرے۔ نوٹ بک میں دوسری
ضروری باتیں نوٹ کیں اور پھر واپس جانے کے لیے مڑا۔ عین اس وقت اس نے
لڑاکا طیاروں جیسا شور سنا، اس نے دیکھا کئی طیارے اس کی طرف آ رہے
تھے۔ اس کا مطلب تھا،مریخ کی مخلوق کو اس کے جہاز کی آمد کا پتا چل
گیا تھا۔ وہ فوراً اپنے جہاز میں پہنچ گیا، دروازہ بند ہوتے ہی جہاز
تیر کی طرح اٹھا اور مریخ کے مدار سے نکل کر خلا میں پہنچ گیا۔ خلا
سے اس کا رخ خود بخود زمین کی طرف ہو گیا۔ اس نے اطمینان کا سانس
لیا۔ اب اسے مریخ کے لڑاکا طیاروں سے کوئی خطرہ نہیں رہا تھا۔
آخر وہ زمین پر اتر آیا۔دروازہ کھلا تو وہ حیران رہ گیا۔ اسے پولیس
نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔پروفیسر ایڈم وغیرہ کا کہیں پتا نہ
تھا۔
”خبردار!ہاتھ اوپر اٹھا دو، کون ہو تم...کون سے سیارے کی مخلوق ہو“
ایک کڑک دار آواز سنائی دی۔
”پروفیسر ایڈم کہاں ہیں“
”کون پروفیسر ایڈم.... بار بار تم سے کہا گیا، اپنی شناخت
کراؤ....لیکن تم نے کوئی جواب نہ دیا....ہم سمجھ گئے کہ اس خلائی
جہاز پر کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہے....جو ہماری زبان نہیں
سمجھتی....لیکن اب تم انگریزی میں بات کر رہے ہو اب کیا بات ہوگئی۔
”اس لیے کہ میرا تعلق اس زمین سے ہے، یہ جہاز بھی اسی زمین کا ہے۔
ابھی ایک ہفتہ پہلے تو میں زمین سے روانہ ہوا تھا... یہیں سے....
پروفیسر ایڈم کو بلائیں....وہ کیوں نہیں آئے“
”یہ....یہ تم کیا کہہ رہے ہو“ وہ لوگ حیران رہ گئے۔
”میں وہی کہہ رہا ہوں جو بات ہے، ارے....یہ کیا....یہاں کا تو نقشہ
ہی بدل گیا ہے....اور یہ کیا.... یہ سامنے کتنا سن لکھا ہوا ہے۔
”سن
2315ء“
اس سے کہا گیا“
”لل....لیکن میں تو
2015ءکو
یہاں سے گیا تھا۔ کیا میں تین سو سال بعد لوٹا ہوں....لل....لیکن میں
.....میں تو مریخ پر صرف چند منٹ ٹھہرا
ہوں گا“
”مریخ....تم مریخ سے ہو کر آ رہے ہو“
”ہاں!، یہ کیا معاملہ ہے“
”تم ساری بات بتاؤ....“
اس نے پوری تفصیل سنا دی...سننے والے حیرت زدہ تھے۔ آخر وہاں خلائی
سفر کے ماہرین پہنچ گئے۔ انہوں نے پرانے ریکارڈ تلاش کئے۔ تین سو سال
پرانی فائلوں میں یہ ذکر انہیں مل گیا کہ ایک خلائی جہاز مریخ کی طرف
بھیجا گیا تھا، اس میں پروفیسر ایڈم نے اپنے بیٹے کیپٹن لاری کو
بھیجا تھا کیونکہ اصل آدمی ٹمّی اس روز بیمار ہو گیا تھا۔
”تو پھر یہ دیکھیے.... یہ رہے میرے کاغذات....“ لاری نے کہا۔
اس کے کاغذات دیکھ کر وہ لوگ دھک سے رہ گئے....ان کے حساب سے لاری
تین سو سال پہلے زمین سے مریخ کی طرف روانہ ہوا تھا.... جب کہ لاری
کے نزدیک یہ ابھی ایک ہفتہ پہلے کی بات تھی۔ ایسے میں لاری کی آواز
ابھری۔
”اس....اس کا مطلب ہے....میرے والد، میری والدہ....میرے بیوی بچے سب
مرچکے ہیں“
یہ آج کی نہیں تین سو سال پہلے کی بات ہے... کیونکہ تمہارے واپس نہ
آنے کے بعد وہ تمہارے صدمے میں روتے رہے....پہلے پروفیسر ایڈم فوت
ہوئے پھر تمہاری والدہ اور اس کے بعد اپنے وقت پر تمہارے بیوی بچے
فوت ہوئے۔ ان بچوں کے بچے بھی اس وقت بوڑھے ہو چکے ہوں گے، انہیں تو
معلوم بھی نہیں ہوگا۔ ان کے گھرانے کے ایک بزرگ کا نام لاری تھا۔
”اُف....اُف....اُف....“
لاری چیخا، پھر اسے ایک زور دار چکر آیا، وہ دھڑام سے گرا اور ساکت
ہو گیا۔
اس کے اردگرد موجود لوگ بوکھلا اٹھے....تیزی سے اس پر جھکے....لیکن
اس کی ر وح پرواز کر چکی تھی۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی اسے اور
کبھی جہاز کو دیکھ رہے تھے....گویا اس واقعے سے متعلقہ آخری آدمی بھی
موت کی گود میں جا سویا تھا...
تاہم...وہ خلائی جہاز کھڑا انہیں یہ کہانی سنا رہا تھا، کہانی جو بچے
بچے کی زبان پر جاری ہونے والی تھی۔
------------o----------- |