|
فیصلے
کا انعام |
|
”سنو
بھئی!کیا تم یہ گھوڑا فروخت کرنا چاہتے ہو“۔ انہوں نے بازار سے گزرتے
ہوئے ایک گھوڑے والے کے پاس رک کر کہا۔
”جی ہاں!یہ گھوڑا برائے فروخت ہے“
”لیکن میں پہلے اس گھوڑے کا امتحان لوں گا، اگر امتحان میں پورا اترا
تو گھوڑا خرید لوں گا“
”ٹھیک ہے، آپ گھوڑ ے کا امتحان کر لیں“
انہوں نے گھوڑا ایک سوار کے حوالے کیا اور اس کا امتحان کرنے کا حکم
دیا۔ سوار گھوڑے کو لے گیا۔ آزمائش کے دوران گھوڑے کو ٹھوکر لگی وہ
زخمی ہو گیا۔ اس کی کھال پرداغ لگ گیا۔
گھوڑا آزمائش پر پورا نہ اترا تو انہوں نے وہ گھوڑ ے کے مالک کو واپس
کرنا چاہا، گھوڑے کے مالک نے جب دیکھا کہ گھوڑا داغی ہو گیا ہے تو اس
نے واپس لینے سے انکار کر دیا اور بولا:
”دیکھئے جناب!میں نے گھوڑا اس حالت میں آپ کو نہیں دیا تھا۔ اب یہ
داغی ہو گیا ہے، لہذا میں واپس نہیں لوں گا“
اس پر انہوں نے کہا:
”لیکن گھوڑا آزمائش کے دوران داغی ہوا ہے“
”میںنے آزمائش کی اجازت دی تھی، یہ نہیں کہ آپ اسے داغی کر دیں گے“
بات بڑھ گئی۔ آخر طے پایا، شریح بن حارث رضی اللہ
عنہ سے فیصلہ کرا لیتے ہیں۔ گھوڑے والے نے یہ بات منظور کر لی۔
شریح رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں کے درمیان
فیصلے کرنے میں بہت مشہور تھے۔
یہ واقعہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے زمانے کا ہے۔ وہ اس وقت مسلمانوں کے
خلیفہ تھے۔ گھوڑا بھی امتحان کے لیے انہوں نے ہی لیا تھا۔شریح
رضی اللہ عنہ نے دونوں کی بات غور سے سنی اور
پھر یہ فیصلہ سنایا:
”اے امیرالمومنین جو گھوڑا آپ نے خریدا تھا، اسے رکھ لیجیے یا جس
حالت میں خریدا تھا، اسی حالت میں ہی واپس کیجئے، گھوڑے کا امتحان
لینے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اسے داغی کر کے واپس کر دیں“
یہ فیصلہ وقت کے عظیم حکمران کے خلاف تھا۔ آپ رضی
اللہ عنہ
22
لاکھ مربع میل پر حکمران تھے۔ قیصر اور کسریٰ آپ کا نام سن کر کانپتے
تھے۔ لیکن قاضی شریح رضی اللہ عنہ بن حارث آپ
رضی اللہ عنہ کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے ذرا نہ
گھبرائے۔ دوسری طرف حضرت عمررضی اللہ عنہ ان
کا فیصلہ سن کر بہت خوش ہوئے اور شریح رضی اللہ عنہ
بن حارث کو کوفے کا قاضی مقرر فرما دیا۔قاضی شریح
رضی اللہ عنہ نے اپنا فرض بہت خوبی سے نبھایا، ان کے فیصلوں
کی بہت تعریف ہوئی، یہاں تک کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ
کے بعد وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی
قاضی رہے۔ تاریخ میں ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔
------------o----------- |
|
|