دوستی کا سفر

ندیم! تم سمجھتے کیو ں نہیں... فاری اچھا دوست نہیں ہے... تم جیسے لوگوں میں بیٹھو گے، ویسے بن جاؤ گے، صحبت کا انسان پر بہت اثر ہوتا ہے”احمد نے ندیم کو سمجھانے کی کوشش کی۔
اس کے ساتھ رہنے سے مجھے کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔“ندیم نے اس کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا۔
ندیم! تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے،کیا تم نے سنا نہیں کہ جب تم دوستی کرنے لگو تو دیکھو کس سے دوستی کر رہے ہو۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ نیک اور بد دوست کی مثال مشک رکھنے والے اور دھونکنی دھونکنے والے کی سی ہے، مشک رکھنے والا یا تو تمہیں مشک مفت دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا اس کی خوشبو ضرور تمہیں حاصل ہوگی اور دھونکنی دھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑوں کو جلا دے گا یا تمہیں اس سے بو یعنی دھواں ملے گا۔ اچھادوست!میرا تو فرض تھا بتا دینا، آگے تمہاری مرضی۔“ یہ کہتے ہوئے احمد اٹھ کھڑا ہوا۔ ندیم اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ پھر خود سے کہنے لگا
میں فاری کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں، وہ تو مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔
O
ندیم غور سے اپنے ابو کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ کتاب پڑھنے میں مصروف تھے۔ پھر اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔رات کے آٹھ بج چکے تھے مگر فاری ابھی تک نہیں آیا تھا۔ ابھی وہ انھی خیالات میں گم تھا کہ فاری کے موبائل کی مخصوص آواز اسے سنائی دی۔ اس نے جلدی سے اپنے ابو کی طرف دیکھا، پھر وہ ڈرائنگ روم سے نکل کر کچن میں چلا گیا۔
امی... میں ذرا لیٹنے لگا ہوں، اگر نیند آجائے تو مجھے اٹھائیے گا مت۔“ندیم نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
بیٹا کیا بات ہے، طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟“اس کی امی نے کہا۔
امی! سر میں کچھ درد ہے۔“ ندیم نے جواب دیا۔
اچھا بیٹے جاؤ۔ اپنے کمرے میں لیٹ جاؤ۔“امی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
جی اچھا“یہ کہہ کروہ جلدی سے اپنے کمرے میں گھس گیا اور اندر سے کنڈی لگا دی۔ پھر اس نے جلدی سے باہر کھلنے والی کھڑکی کھول دی۔ دوسرے ہی لمحے فاری اندر داخل ہوگیا
سناؤ فاری کیا بنا؟“ندیم نے جلدی سے پوچھا۔ فاری کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
فاری اور اپنے دوست کے لیے اتنا بھی نہ کرسکے۔ یہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔ دوٹکٹ لے آیا ہوں، بڑی مشکل سے ملے ہیں۔ تم ساڑھے نو بجے پہنچ جانا۔“ یہ کہتے ہوئے فاری اٹھ کھڑا ہوا، ندیم سے ہاتھ ملایا اور آہستہ سے کھڑکی سے باہر کود پڑا۔
O
ابو...“ندیم کہتے ہوئے رک سا گیا۔
جی بیٹے کیا بات ہے۔“شیخ صاحب نے چشمہ درست کرتے ہوئے کہا۔
وہ... ابو اسکول کے کچھ سوالات حل کرنے تھے، ذرا احمد کے پاس جانا ہے، مل کر کرنے سے اچھی طرح سمجھ میں آجائیں گے۔“ندیم اب ایسے جھوٹے بہانوں کا عادی ہوچکاتھا۔
کیوں نہیں بیٹا ضرور جاؤ۔ احمد تو یوں بھی مجھے بہت پسند ہے۔“ شیخ صاحب نے احمد کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ شیخ صاحب اور کوئی بات کہتے، ندیم جلدی سے اٹھ کر باہر نکل گیا۔
ندیم اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کے والدین نہایت شریف اور نیک تھے، ندیم پر انھیں پورا اعتماد تھا، وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ندیم ان کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہا ہے۔ فاری نے اسے ایک گر سکھایا تھا کہ جو بات تمہارے والدین کہیں، فوراً ہاں کر دینا اور جس سے منع کریں، فوراً رک جانا، لیکن کرنا وہ جو تمہارا دل چاہے اور اپنے والدین کو خبر تک نہ ہونے دینا۔ اس طرح وہ تم پر پورا اعتماد کریں گے اور اب بالکل ویسا ہی ہو رہا تھا۔
O
ہیلو ندیم! “فاری نے زور دار آواز میں کہا تو ندیم چونک سا گیا، اسے یہ بھی ڈر رہتا تھا کہ کوئی دیکھ لے گا۔
ندیم آؤ برگرلیتے ہیں، ساتھ میں ایک ایک کولڈ ڈرنک... کیا خیال ہے؟“فاری نے پر جوش لہجے میں کہا
ہاں ٹھیک ہے۔“ ندیم نے خوش ہو کر کہا۔ کچھ دیر بعد وہ ہال میں بیٹھے تھے، فلم شروع ہوچکی تھی، ندیم نے اپنی بوتل کا ایک گھونٹ بھرا تو اسے اس کا ذائقہ بہت عجیب لگا
فاری یہ کیسا ڈرنک ہے؟“ندیم نے منہ کا عجیب سا زاویہ بنا کر کہا۔
 ”یہ ڈرنک ایسا ہے کہ اس سے انسان تازہ دم ہوجاتا ہے۔ پی جاؤ۔“ فاری کی نظروں میں عجیب سی شرارت تھی۔
 فلم گزرتی گئی اور ندیم بوتل کی ہلکی ہلکی چسکیاں لیتا رہا۔ آخر ندیم کے حواس جواب دینے لگے۔ اسے ہر چیز دور دور محسوس ہونے لگی۔ آنکھیں چندھیانے لگیں۔
ٹرن ٹرن...ٹرن ٹرن۔“فون کی گھنٹی بجی۔شیخ صاحب نے ریسیور اٹھایا۔
السلام علیکم ...کون؟؟...احمد بات کررہے ہو!کیا حال ہے بیٹا؟؟...ندیم...ندیم...تو نو بجے سے تمہارے ہاں گیا ہوا ہے...اچھا نہیں آیا...اوہ...فاری کے ساتھ کہیں جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ ...اچھا ...ٹھیک ہے تم اسے تلاش کرو۔ پتا چل جائے تو مجھے فون کردینا۔ ...“
شیخ صاحب نے ریسیور رکھا اور پریشان نظروں سے بیگم کی طرف دیکھنے لگے۔
کیا ہوا ہے؟“بیگم نے حیران ہوکر پوچھا۔شیخ صاحب نے سارا ماجرہ کہہ سنایا۔
شاید ہم نے ندیم پر کچھ زیادہ ہی اعتماد کر لیا ہے،اللہ پاک کو یہ بات پسند نہیں آئی،اولاد کی نگرانی کرنا ضروری ہے۔نہ جانے وہ کب سے ان چکروں میں پڑا ہوا ہے۔“شیخ صاحب کی آواز بہت غم زدہ تھی۔
O
ندیم کے حواس اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے، فاری نے موقع غنیمت جا ن کر اپنی بوتل بھی اسے پلا دی تھی۔ اب وہ الٹی سیدھی باتیں کرنے لگا۔لوگ اس کی طرف غصہ بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، کیونکہ اس کے شور کی وجہ سے فلم سے لوگوں کی توجہ ہٹ رہی تھی۔آخر کسی کے شکایت کرنے پر باہر سے دوگارڈ آئے اورا سے زبردستی پکڑ کر سینما ہال کے باہر پھینک آئے۔اتنے میں احمد اسے تلاش کرتے کرتے وہاں سے گزرا، اسے اس حالت میں دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا، فوراً شیخ صاحب کو فون کیا، وہ فوراً وہاں پہنچ گئے۔اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔وہ تڑپ اٹھے۔احمد نے جلدی سے ٹیکسی رکوائی۔انہوں نے ندیم کو اس میں بٹھایا اور ہسپتال لے گئے۔
O
شیخ صاحب آپ کے بیٹے نے بہت مہنگی قسم کی شراب پی ہے۔ ایسی شراب تو وہ لوگ پیتے ہیں جنھیں کافی عرصے سے پینے کی عادت ہو۔
ڈاکٹر صاحب نے شیخ صاحب کو بتایا۔شیخ صاحب کی نظریں شرم سے جھکی ہوئی تھیں۔ وہ ڈاکٹر صاحب کو کیا بتاتے۔احمد ڈاکٹر صاحب کو ایک طرف لے گیا اور انھیں ساری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔
ندیم کی آنکھیں کھلیں تو اس کے ابو اس کے سامنے کھڑے تھے۔ احمد بھی ساتھ تھا۔ احمد کو دیکھتے ہی اسے سب کچھ یاد آگیا تھا۔وہ سب کچھ سمجھ گیا۔
ابو مجھے معاف کرد یں!میں آیندہ کبھی بھی کسی غلط لڑکے سے دوستی نہیں کروں گا۔“احمد کی ساری باتیں اسے یاد آنے لگیں۔
O
دودن کے بعدجب ندیم اسکول گیا توسامنے فاری کھڑا نظر آیا۔وہ اسے دیکھ کر اس کی طرف بھاگتا ہوا آیا۔
ندیم کیسے ہو،نہ جانے اس دن میں نے تمہیں کیا پلا دیا،تم عجیب قسم کی باتیں کرنے لگے تھے۔ میں تو ڈر گیا تھا،جب تمہیں باہر نکالاگیا تو میں تمہارے ساتھ جانے لگا تھا مگر انھوں نے مجھے روک دیا۔ بعد میں میں نے تمہیں بہت تلاش کیا مگر تم نہیں ملے۔میں اس دن سے بہت پریشان تھا۔
فاری مسلسل بولتا چلا گیا۔ندیم نے اسے پھاڑ کھانے والی نگاہوں سے دیکھا اور پھر منہ پھیر کر آگے بڑھ گیا۔
O
کچھ دنوں بعد ندیم اپنے ابو کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا۔اس کے ہاتھ میں نماز کے مسائل کی کتاب تھی۔وہ اس کا مطالعہ کررہا تھا کہ اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔ندیم نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔
السلام علیکم احمد! کیا حال ہے۔“ندیم نے خوش ہو کر کہا۔
وعلیکم السلام ٹھیک ہوں …“
اندر آجاؤ۔“وہ احمد کو بھی ڈرائنگ روم میں لے آیا۔
احمد نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا۔یہ اخبار کا ایک ٹکڑا تھا۔
ندیم یہ پڑھ کر دیکھو!آج کے اخبار کی ایک تازہ خبر ہے۔“احمد نے اسے کاغذ پکڑاتے ہوئے کہا۔
ندیم نے بلندآواز سے پڑھنا شروع کیا۔لکھا تھا
پولیس نے رات کو ایک مشکوک عمارت پر چھاپا مارکر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک لڑکے کو گرفتار کرلیا۔ اس کا نام فاری ہے جس کی عمر صرف 20سال ہے۔مزید تحقیقات کرنے سے پتا چلا کہ فاری نامی یہ نوجوان ایک غیر ملکی ایجنسی کے لیے کام کرتا ہے۔یہ اسکولوں اور کالجوں کے لڑکوں سے دوستی کر کے انھیں منشیات کاعادی بناتا ہے۔پھر منشیات کے بدلے ان سے اپنی ایجنسی کے لیے کام لیتا ہے۔مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے اس کی دوستی سے بچا لیا۔ اب مجھے پتا چل گیا ہے کہ سچا دوست کون ہوتا ہے۔ احمد! واقعی تم ٹھیک کہتے تھے۔ برے دوستوں کی صحبت کا برا ہی اثر ہوتا ہے․․․ بس اب تم ہی میرے دوست ہو․․․ ان شاء الله دوستی کا سفر تمہارے ساتھ ہی طے ہوگا۔
یہ کہتے ہوئے اس نے احمد کو گلے سے لگا لیا۔