بھیانک منصوبہ
|
”جناب میں حوالدار افضل بول رہا ہوں، جناب! ابھی ابھی ویران ساحل سے ایک چھوٹا سا بحری جہاز روانہ ہوا ہے، ہم نے فائرنگ بھی کی، لیکن وہ ہماری گولیوں کی زد سے نکل چکا تھا۔ مجھے یقین ہے جناب کہ بچوں کے اغوا میں یہی لوگ ملوث ہیں۔ “
”تم وہیں ٹھہرو، میں ابھی پہنچتا ہوں۔“انسپکٹر ہارون نے ہدایت کی اور فون بند کرد یا۔
اس نے جلدی سے پولیس پارٹی کو مختلف ذمہ داریاں سونپیں اور خود طارق کمانڈو کے ساتھ جیپ میں روانہ ہوگیا۔ طارق کمانڈو بری، بحری اور فضائی جنگوں کا ماہر اور انسپکٹر ہارون کا دستِ راست تھا۔ ابھی وہ جیپ میں جار ہے تھے کہ انسپکٹر ہارون کے موبائل کی گھنٹی دوبارہ بجنا شروع ہوگئی، اب جو اس نے فون سنا تو بری طرح اچھل پڑا اور گاڑی اس کے کنٹرول سے باہر ہوگئی، طارق کمانڈو نے فوراً گاڑی کا اسٹیرنگ تھام لیا اور بریک لگا دی، جیپ چر چر کی تیز آواز کے ساتھ رک گئی۔
”کیا ہوا ہارون بھائی۔“طارق کمانڈو نے حیرت سے پوچھا:”طارق میرا اکلوتا بیٹا ابراہیم بھی اغوا ہو چکا ہے۔ “
”کیا؟“طارق کمانڈو کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
آخر وہ انسپکٹر ہارون کے ساتھ ساحلِ سمندر پہنچ گیا ۔ وہ جیپ سے اتر کر فوراً نیوی کے ایک تیز رفتار جہاز میں سوار ہوگئے۔ اس میں نیوی کے کئی فوجی پہلے سے سوار تھے۔
”جناب! ہماری کئی لانچیں اس پورے سمندری علاقے میں پھیل چکی ہیں، ان شاء اللہ جلد ہی کوئی اچھی خبر سننے کو مل جائے گی ہاں سر مجھے نواز کہتے ہیں۔ “
نیوی کے افسر نے انسپکٹر ہارون اور طارق کمانڈو کو صورتِ حال سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا تعارف کرایا، اس کا انسپکٹر ہارون اور طارق کمانڈو نے رسمی مسکراہٹ سے جواب دیا اور دوربینوں کی مدد سے سطح سمندر کا جائزہ لینے لگے۔ کچھ ہی دیر میں نیوی بوٹس اور جہاز اس مشتبہ جہاز کو گھیر چکے تھے، لیکن اس جہاز کے کیبنٹ پر کھڑے ایک دہشت گرد نے ایک بازو میں انسپکٹر ہارون کے بیٹے ابراہیم کو تھام رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ سے پستول کی نال اس کے سر پر جما رکھی تھی۔
”ہاہاہا․․․․․ انسپکٹر ہارون! ہم نے تمہارا پورا علاج کر رکھا ہے، ہمیں معلوم تھا، تم ضرور رکاوٹ بنو گے، اب یا تو ہمیں آرام سے جانے دو یاپھر اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کے لیے تیار ہوجاؤ اور ہاں اگر تم ہمیں امن و امان سے جانے دو گے تو تمہیں تمہارا بیٹا ایک ہفتے کے اندر اندر صحیح سلامت مل جائے گا۔ “
انسپکٹر ہارون نے دہشت گردوں کو بڑی سے بڑی رقم کا لالچ دیا، لیکن انھوں نے اس کی ہر پیشکش کو بری طرح ٹھکرادیا، جب وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے تو انسپکٹر ہارون نے گھیرا کھولنے کا حکم دے دیا اور نیوی کی تمام کشتیوں اور جہاز نے واپسی کا راستہ اختیار کر لیا جب کہ دہشت گرد اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔ اب اس نئی صورتِ حال سے سب پریشان تھے، لیکن انسپکٹر ہارون کسی حد تک مطمئن نظر آرہے تھے، کیوں کہ انھیں اپنی تدبیر سے کافی حد تک کامیابی کی امید تھی۔ انسپکٹر ہارون اور نیوی کے واپس ساحل پر پہنچنے کے کوئی ایک گھنٹے بعد نیوی افسر نواز خوشی سے اچھلا۔
”وہ... وہ دیکھیں، وہ جہاز واپس ہماری طرف آرہا ہے۔ “
انسپکٹر ہارون نے بھی دوربین سے دیکھ کر اس کی تائید کی، اب سب کے منہ سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ”خدایا ہمارا کوئی جانی نقصان نہ ہوا ہو۔ “
کچھ ہی دیر بعد وہ جہاز ساحل پر پہنچ گیا اور اس جہاز سے طارق کمانڈو نے نعرہ تکبیر بلند کیا، انسپکٹر ہارون اور نیوی کے فوجی اللہ اکبر کہتے ہوئے جہاز پر پل پڑے، یہ لوگ اس جہازمیں داخل ہوئے تو سب دہشت گردوں کے ہاتھ پیٹھ سے بندھے ہوئے تھے اور وہ جہاز میں اوندھے پڑے تھے جب کہ انسپکٹر ہارون کے بیٹے ابراہیم سمیت 36 بچے جہاز سے غنودگی کی حالت میں مل گئے۔
دراصل دہشت گردوں کے جہاز کو کنٹرول اس طرح کیا گیا کہ جب اس جہاز کو گھیرا گیا، اس وقت انسپکٹر ہارون، دہشت گردوں سے مذاکرات کو طول دیتے رہے، ادھر طارق کمانڈو اور چند نیوی جانبازوں نے سمندر میں غوطہ لگا دیا تھا اور انھوں نے اپنی مخصوص رسیاں اس جہاز کے خفیہ حصوں سے باندھ لیں تھیں، خود اس جہاز کے پیچھے سمندر میں تیرتے رہے، انھیں جب اندازہ ہوگیا کہ دہشت گرد کسی بھی قسم کے خطرے سے مطمئن ہوچکے ہیں تو وہ احتیاط سے جہاز میں داخل ہوگئے اور پھر یک بارگی دہشت گردوں پر حملہ کر دیا جو کہ شراب کے نشے میں دھت تھے۔ انھوں نے باآسانی جہاز کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور دہشت گردوں کو گرفتار کرکے واپس لانے میں کامیاب ہوگئے۔ بعد میں تفتیش سے معلوم ہوا کہ یہ دہشت گرد ایک اسلام دشمن تنظیم کے رکن تھے، یہ لوگ اسلامی ممالک سے معصوم بچوں کو اغوا کرکے اپنے کیمپوں میں لے جاتے، پھر انھیں دہشت گردی کی تربیت دیتے تھے، وہ ان دہشت گردوں سے مسلمان رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کاکام لیتے اور بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام کراتے تھے اور اسی دوران کوئی دہشت گرد مارا جاتا یا وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اسے خود مروادیتے تو تفتیش سے وہ کسی مسلم ملک کے ہی باشندے معلوم ہوتے۔ یوں مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں مزید بدنام کیا جاتا۔ |
|
|
|