|
ایک
سوال |
|
منصور احمد بٹ
|
استاد
کلاس میں داخل ہوئے ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، بولے:
”آج میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں، دیکھتے ہیں کون درست جواب دیتا
ہے، ہاں تو میرا آج کا سوال ہے، علم افضل
ہے یا مال“
استاد یہ کہہ کر خاموش ہو گئے، سب پرنظر دوڑانے لگے۔ طلبہ سوچ میں گم
تھے۔ آخر ایک بچے نے ہاتھ اٹھایا:
”ہاں سعید! شاباش:بتائیے، علم افضل ہے یا
مال“
”جی مال....“ سعد نے فوراً کہا۔
”وہ کیسے، وضاحت کریں“
”ہم مال کے ذریعے علم حاصل کر سکتے ہیں، علم کے ذریعے مال نہیں“
استاد صاحب سعد کا جواب سن کر مسکرائے، پھر بولے:
”خیر!کوئی اور طالب علم جواب دے“
ایک اور بچے نے ہاتھ اٹھا دیا۔
”ہاں بتائیں، علم ا فضل ہے یامال“
”جی علم“ اس نے کہا۔
”وہ کیسے عامر“ انہوں نے پوچھا۔
”علم سے آدمی حقیقی معنوں میں انسان بنتا ہے، جب کہ مال کے ذریعے یہ
بات ممکن نہیںہے“
”خوب“ استاد کے منہ سے نکلا، پھر انہوں نے کہا۔
”یہ سوال حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے جو جواب
دیا، میں وہ آپ کو بتاتا ہوں، امید ہے آپ
سب کے علم میں اضافہ ہو گا۔ہاں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب میں
ارشاد فرمایا:
”علم افضل ہے“
اُن سے پوچھا گیا۔
”اس کی دلیل کیا ہے کہ علم مال سے افضل ہے“
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”علم انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے (یعنی وراثت) اور مال فرعون
اور قارون کی،
علم سے دوست بنتے ہیں، جبکہ مال سے حاسد بنتے ہیں۔
علم کے چوری ہونے کا ڈر نہیں۔ جب کہ مال کو امن نہیں۔
علم پرانا ہو تو مضبوط ہو جاتا ہے۔ مال پرانا ہوتو کم قیمت ہو جاتا
ہے۔
علم کو خرچ کیا جائے تو بڑھتا ہے، جبکہ مال کو خرچ کیاجائے تو گھٹتا
ہے۔
علم کا قیامت میں حساب نہیں لیا جائے گا، جب کہ مال کا حساب دینا ہو
گا۔
علم سے دل روشن ہوتا ہے جب کہ مال سے دل سیاہ ہوتا ہے۔
علم انسان کی حفاظت کرتا ہے جب کہ مال کی حفاظت انسان کو کرنا پڑتی
ہے۔
علم کی کثرت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں تیرا
بندہ ہوں، تیری عبادت کرنا میرا حق ہے، جب کہ مال کی کثرت کی وجہ سے
فرعون نے کہا، میں رب ہوں“
تو میرے عزیز طالب علمو! اس میں شک نہیں کہ مال سے دنیا کے چند بڑے
فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن ہر مشکل میں مال کام نہیں آسکتا،
مثلاً:
٭ مال سے ہم عینک خرید سکتے ہیں، بینائی نہیں۔
٭ مال سے ہم نرم بستر خرید سکتے ہیں، میٹھی نیند نہیں۔
٭ مال سے ہم کتابیں خرید سکتے ہیں، علم نہیں۔
٭ مال سے ہم کسی کی خوشامد خرید سکتے ہیں، کسی کی محبت نہیں۔
٭ مال سے ہم زیورات خرید سکتے ہیں، خوبصورتی نہیں۔
٭ مال سے ہم گھر میں ملازم تو لاسکتے ہیں، بیٹا نہیں۔
تو میرے عزیز طالب علمو، ہم سب کو چاہیے، طالبِ مال بننے کی بجائے
طالب علم بنیں۔ کیا خیال ہے آپ کا:
”بالکل ٹھیک جناب“ سب نے ایک زبان ہو کر کہا۔
اور پھر سب مسکرانے لگے، یہ مسکراہٹ ان کے چہروں پر علم کی بدولت آئی
تھی۔
------------o----------- |
|
|