|
" اُف" |
|
”اے موسیٰ
آج سنبھل کر بات کرنا“
اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم سن کر موسیٰ بہت حیران ہوئے۔ کوہِ طور پر آنا
اور اﷲ تعالیٰ کے احکامات وصول کرنا ان کا معمول تھا، لیکن ایسی بات
پہلے کبھی نہیں کہی گئی تھی، چنانچہ انہوں نے عرض کیا :
”باری تعالیٰ! آج کیا بات ہے؟“
جواب ملا:
”تمہارے اس طرف آنے کے بعد تمہاری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، پہلے
جب تم آتے تھے تو والدہ کی دعائیںپشت پر ہوتی تھیں، آج ایسا نہیں ہے،
لہذا آج سنبھل کر بات کرنا“
والد ین کے مقام کی اس سے بڑھ کر مثال کیا ہو گی۔
ایک مرتبہ حضرت یعقوب
علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت یوسف
علیہ السلام کے گھر تشریف لائے تو وہ
استقبال کے لیے کھڑے نہ ہوئے۔اﷲ تعالیٰ نے حضرت یوسف
علیہ السلام کی طرف وحی
نازل فرمائی:
”اے یوسف! آپ نے اپنے والد کے ادب میں کمی کی، مجھے اپنی عزت کی قسم،
اپنے جلال کی قسم!میں آئندہ تمہاری سلب سے کوئی نبی پیدا نہیں کروں
گا“
ایک شخص رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے
اپنے باپ کی شکایت ان الفاظ میں کی:
”اے اﷲ کے رسول: میرے باپ نے میرا سارا مال لے لیا ہے“
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”اپنے باپ کو بلا کر لے آ“
نوجوان باپ کو بلانے کے لیے گیا، اسی وقت حضرت جبرئیل امین
علیہ السلام تشریف لے
آئے اور کہا۔
”اے اﷲ کے رسول!جب اس لڑکے کا والد آ جائے تو آپ اس سے پوچھیں، وہ
کیا باتیں ہیں، جو آتے ہوئے اس نے راستے میں دل میں کی ہیں، اس کے
کانوںنے بھی ان کو نہیں سنا“
جب وہ نوجوان اپنے والد کو لے آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا:
”کیا آپ نے اپنے بیٹے کا مال چھینا ہے؟“
اس پر باپ نے کہا:
”اے اﷲ کے رسول!آپ اس سے پوچھ لیں، میں اس کی پھوپھی یا اپنے نفس کے
سوا کہاں خرچ کرتا ہوں“
آپ نے اس کی بات سن کر فرمایا:
”پس حقیقت معلوم ہو گئی“ اس کے بعد آپ نے اس سے پوچھا۔
”وہ کیا باتیں ہیں جو آپ نے دل میں کہی جن کو خودآپ کے اپنے کانوں نے
بھی نہیں سنا“
اس شخص نے عرض کیا:
”اے اﷲ کے رسول! ہر معاملے میں اﷲ تعالیٰ آپ پر ہمارا ایمان اور یقین
بڑھا دیتے ہیں۔یعنی جو بات خود میرے کانوں تک نے نہیں سنی، اس کی بھی
آپ کو خبر ہو گئی“
پھر اس نے کہا:
”میں نے چند اشعار آتے ہوئے پڑھے تھے“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
”وہ اشعار ہمیں بھی سنائیں“
اس پر صحابی
رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے:
ترجمہ: میں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور بڑا ہونے پر بھی غذا دی۔
تمہاری ہر ذمے داری اٹھائی۔ تمہارا سب کچھ میری کمائی سے تھا۔ جب کسی
رات تمہیں کوئی بیماری پیش آ جاتی تھی تو میں وہ رات سخت بے قراری کی
حالت میں جاگ کر گزار دیتا تھا۔ جیسے بیماری تمہیں نہیں، مجھے لگی
ہوئی ہو، اس کی وجہ سے میں تمام رات رو کر گزار دیتا۔ میرا دل تمہاری
ہلاکت سے ڈرتا تھا اور بے شک میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے۔
جب تم اس عمر اور اس حد تک پہنچ گئے کہ جس عمر کی میں تمنا کیا کرتا
تھا تو پھر تم نے میرا بدلہ سخت روئی اور سخت گوئی بنا لیا گویا کہ
تم ہی مجھ پر احسان اور انعام کر رہے ہو۔ اگر تم سے میرے باپ ہونے کا
حق ادا نہیں ہو سکتا تو کاش تم کم از کم اتنا ہی کر لیتے جیسا ایک
شریف پڑوسی کر لیتا ہے۔ تو نے مجھے کم از کم ایک پڑوسی کا حق دیا
ہوتا، میرے ہی مال میں مجھ سے بخل سے کام نہ لیا ہوتا“
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سنا تو بیٹے کا گریبان پکڑ لیا
اور فرمایا:
”تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے“
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”جنت ماؤں
کے قدموں تلے ہے“
ایک اور موقعے پر آپ
صلی اللہ عیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”اﷲ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اﷲ کی ناراضی والد کی ناراضی میں
ہے“
اﷲ تعالیٰ
کا ارشاد ہے:
”پس ان کے سامنے اُف تک بھی نہ کرو“
اﷲ تعالیٰ کے اس حکم کی وضاحت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد
فرماتے ہیں۔
”تکلیف پہنچانے میں اگر
"اُف" سے بھی کوئی کم درجہ ہوتا تو یقیناً اﷲ
تعالیٰ کی طرف سے اس کا بھی ذکر کیا جاتا“
حضرت مجاہد اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
”اگر والدین بوڑھے ہو جائیں اور تمہیں ان کا پیشاب پاخانہ دھونا پڑے
تو بھی اُف نہ کرو، خود سوچو، وہ بچپن میں تمہارا پیشاب پاخانہ دھوتے
ہوئے اُف تک کیا کرتے تھے؟“
------------o----------- |
|
|