|
ایک تھا چاند |
|
محمد جمیل قریشی۔ شجاع آباد
|
دنیامیں
بڑے بڑے اور مشہور پہلوان گزرے ہیں جیسے عالمی باکسر محمد علی کلے،
انتھونی، انوکی۔ دیسی کشتی کے پہلوان ناصر پہلوان، اکرم عرف اکی اور
جھارا پہلوان، لوگوں نے ان کے عروج کے وقت انھیں یاد رکھا مگر ان کے
زوال کے بعد لوگ بھول گئے۔ کئی لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے بہت طاقت دی
تھی۔ ان کے قصے سن کر آج بھی حیرت ہوتی ہے۔
پاکستان بننے سے پہلے دہلی کے قرےب ایک گاؤں میں چاند نامی ایک شخص
بہت طاقت ور تھا مگر غربت کی وجہ سے خوراک بھی پوری نہیں ملتی تھی۔
ایک دفعہ ان کے گاؤں کے قرےب ایک بیل گاڑی والے کا ایک بیل مر گیا۔
گاڑی پر تیس پینتیس من کے قرےب سامان لدا ہوا تھا۔ گاڑی میں دو بیل
جوتے جاتے تھے۔ اس جگہ سے دہلی تقرےباً چالیس کلو میٹر تھا۔ بیل کے
مرنے پر گاڑی والا بہت پریشان تھا کہ ادھر سے چاند کا گزر ہوا، ریڑھی
والے سے اس نے حال پوچھا تو وہ کہنے لگا:” میں سفرمیں ہوں، دہلی
سامان پہنچانا ہے اور میرا ایک بیل مر گیا ہے۔ اب میں کیسے ایک بیل
کے ساتھ سامان دہلی پہنچاؤں۔“
چاند نے کہا:” بس اتنی سی بات پر پریشان ہو۔“
ریڑھی والا یہ سن کر حیران ہوا کہ اسے یہ اتنی سی بات لگتی ہے جب کہ
میرے لیے بہت مشکل، بلکہ ناممکن ہے۔ اس نے کہا :”بھائی یہ تمہارے لیے
اتنی سی بات کیسے ہے۔“
چاند نے کہا :”تمہارے مرنے والے بیل کی جگہ میں ریڑھی کو کھینچوں گا
اور سامان دہلی پہنچا دوں گا۔“
اس نے کہا :”اجرت کیا لو گے؟“
چاند نے کہا :” اجرت کیسی، ہمیں تو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دینا۔“
گاڑی والے نے کہا:” کھانا میں دہلی جا کر کھلاؤں گا۔ ریڑھی پر تو کچے
چنے لدے ہوئے ہیں۔ “
چاند نے کہا:”چلو راستے میں تو کچے چنے بھی چلیں گے۔ “
ریڑی والے نے اسے چنے دیے۔ اب چاند ریڑھی کو کھینچتارہا اور چنے بھی
کھاتا رہا۔ اس طرح دہلی پہنچ گئے۔ وہ چنے ایک سیٹھ کے تھے۔ اسے یہ
واقعہ معلوم ہوا تو وہ بھی بہت حیران ہوا۔ راستے میں چاند نے خوراک
کے طور پر تقرےباً پچیس کلو چنے کھائے۔ جب لوگوں کو پتا چلا کہ بیل
کی جگہ ایک شخص نے بیل گاڑی کو سامان کے ساتھ پینتیس کلو میٹر کا سفر
کیا ہے تو لوگ حیران بھی ہوئے، خوش بھی کہ خدا کی مخلوق میں کیسے
کیسے طاقت ور لوگ ہیں۔
اب لوگوں نے چاند کو انعام دینا چاہا تو اس نے کہا :”میرا انعام تو
یہ ہے کہ مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلا دیں۔“
سب نے کہا کہ یہ تو کوئی مسئلہ نہیں۔ سیٹھ نے کھانا منگوایا جو
تقرےباً تین چار آدمیوں کے لیے کافی تھا۔ چاند وہ کھا گیا۔ اب اور
کھانامنگوایا گیا۔ وہ بھی کھا گیا۔ جب تک اس کا پیٹ بھرتا، وہ دس
آدمیوں کی خوراک کھا چکا تھا۔
قدرت نے کیسے کیسے لوگ پیدا کیے جو کہ گمنام زندگی گزار گئے۔ موقع
ملا توچاند کے باقی واقعات پھر کبھی لکھوں گا۔
-------------o-----------
پرنٹ
کریں
|
|
|
|
|