فینکس کے
ذریعے جب ایک اور گڑھا کھودنے کی کوشش کی گئی تو اُسے روک دیاگیا
کیونکہ خلائی گاڑی کا بازو ایک ٹھوس سطح سے ٹکرایا۔ جس کے بارے میں
بھی خیال ہے کہ وہ بھی برف ہوگی۔
اس تلاش سے ان تجاویز کو تقویت ملتی ہے جس میں کہا
جاتا رہا ہے کہ مریخ پر ماضی قدیم میں پانی موجود تھا جوکہ سیارے کی
سطح کے قریب منجمد ہوگیا۔
امریکہ کی
ایروزونا یونیورسٹی میں فینکس کے سرکردہ تفتیش کار ڈاکٹر پیٹر سمتھ
نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ یقیناً برف ہی ہوگی‘۔
’یہ چھوٹے
چھوٹے ڈھیر جو چند روز میں غائب ہوگئے ہیں، اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے
کہ یہ برف ہی ہے‘۔
تاہم
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ سوال بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ سفیدی مائل
مادہ شاید نمک ہو لیکن ان کے بقول نمک تو اس طرح غائب نہیں ہوتا۔
فینکس نے
مریخ پر برف کے جو چھوٹے سے ٹکڑے دریافت کیے اور وہاں اپنے قیام کے
بیسویں روز اس کی تصاویر بھی بنائیں لیکن اس کے چار روز بعد بعض ٹکڑے
وہاں نظر ہی نہیں آئے۔
فینکس
مریخ پر اس بارے میں اُسی طریقہ کار کے تحت مزید تصدیق کرے گا کہ اس
طرح کا مواد سیارے پر موجود ہے۔
پرنٹ
کریں