.

کولیسٹرول: عارضہ قلب کے لیے بہتر

 

نئی تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہر تیسرے شخص میں کچھ ایسے جینیات پائے جاتےہیں جو عارضہ قلب کو روکنے میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

ایک لاکھ سینتالیس ہزار مریضوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ CETP جینز کے بعض نمونے ایسے ہوتے ہیں جو کہ نام نہاد ’اچھے کولیسٹرول‘ کی سطحوں میں اضافہ کرتے ہیں۔

برطانیہ اور ڈچ محققین کی یہ تحقیق جو ’امریکن ہارٹ ایسو سی ایشن جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے، بتایا گیا ہے کہ اس طرح کی جینز سے دل کا دورہ پڑنے کی شرح میں پانچ فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں جینیٹکس کی لیکچرر ڈاکٹر ارون ہنگورانی کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے جو معلومات حاصل ہوئی اس سے بیماری کے اسباب اور اثرات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور جب یہ بات سمجھ میں آجائے تو بہتر ادویات بنائی جاسکتیں ہیں جس سے اس کا سدِ باب ہوسکے۔

ایک برطانوی ماہرِ جینیات کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے بعد ادویات سے متعدد لوگوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

سائنسدان یہ بات تو پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ خون کے نظام میں ’خراب کولیسٹرول‘ کی سطح میں کمی سے دل کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق میں برطانیہ کی کیمبرج اور نیو کاسل یونیورسٹیز جبکہ ہالینڈ کی گروننجن یونیورسٹی کی ٹیموں نے دنیا بھر کے ایک لاکھ سینتالیس افراد پر کیے گئے اپنے ایک سو مشاہدوں کو اکٹھا کیا ہے۔

اس تحقیق میں CETP جینز کی چھ مختلف اشکال میں سے ایک کے اثرات کے بارے میں جانچ کی گئی ہے۔

پروفیسر جان ڈینش جو اس تحقیق کے سرپرست ہیں، ان کا کہنا ہے کہ نئی سٹڈی اُس خیال کو تقویت دے گی جس کے تحت کہا جا رہا تھا کہ ’ایچ ڈی ایل کولیسٹرول‘ کی سطح میں اضافہ کرکے عارضہ قلب کو روکا جاسکتا ہے۔ ایسا بعض ادویات سے ہی ممکن ہے جو CETP کو روکتی ہے۔

واضح رہے کہ سن دو ہزار چھ میں ’ایچ ڈی ایل کولیسٹرول‘ کی سطح بڑھانے والی ادویات کا تجربہ اس وقت ختم کردیا گیا تھا جب دل کا دورہ پڑنے اور اس کی وجہ سے اموات کی شرح میں اضافہ ہوگیا تھا۔

’برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن‘ کے پروفیسر پیٹر ویسبرگ کا کہنا ہے کہ اس سٹڈی کے فوائد تو ہوسکتے ہیں لیکن اب بھی اس بارے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ اس سے مزید کتنے مفید نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔

پرنٹ کریں

اوپر